لاہور، 8/ ستمبر (آئی این ایس انڈیا)پنجاب میں انسداد دہشتِ گردی کے محکمے (سی ٹی ڈی) نے اسلامی مہینے محرم میں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر کے الزام میں 87 علما کے خلاف مقدمے کے اندراج کے علاوہ کئی کو نقصِ امن کے پیشِ نظر گھروں میں نظر بند کر دیا ہے۔یہ کارروائی پنجاب حکومت کے اس فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پر کارروائی کا اختیار سی ٹی ڈی کو بھی دیا گیا ہے۔بعض علمائے کرام نے سی ٹی ڈی کو یہ اختیار دینے کی مخالفت کی ہے جب کہ کئی علما نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اسلامی مہینے محرم میں نظریاتی اور مذہبی اختلافات پر مبنی ویڈیوز سوشل میڈیا پر جاری کرنے کی کئی شکایات موصول ہوئی تھیں۔سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اِس سلسلے میں کسی بھی شخص کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔سی ٹی ڈی کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق محرم کے دوران اوراِس سے قبل سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت (ہیٹ اسپیچ) پھیلانے والے 218 افراد کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے۔ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ 87 افراد کے خلاف صوبے کے مختلف شہروں میں مقدمات درج کر کے اْنہیں جیل بھیجا گیا ہے جب کہ 43 افراد کو تین ایم پی او یعنی 'مینٹینینس آف پبلک آرڈر' کے تحت نظر بند کیا گیا ہے۔ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی مدد سے چار ہزار سے زائد ایسے سوشل میڈیا پیجز کو بند کیا ہے جن پر مذہبی منافرت پر مشتمل مواد تھا۔عزاداری کونسل ا?ف پاکستان کے چیئرمین علامہ سید ذوالفقار علی نقوی سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے مذہبی منافرت کو ہوا مل رہی ہے۔اْن کا کہنا تھا کہ بعض مسالک کے علما اہل تشیع حضرات پر نکتہ چینی کرتے ہیں جس سے لامحالہ لوگوں میں بے چینی بڑھتی ہے۔اْن کے بقول بعض شیعہ علما بھی بغیر تحقیق کیے سوشل میڈیا پر اپنی تقاریر جاری کر دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہر کوئی لیڈر بننے کی کوشش کرتا ہے جس سے نفرت جنم لیتی ہے۔ذوالفقار نقوی سمجھتے ہیں کہ اگر مسالک کے درمیان بحث کرنا مقصود ہو تو سوشل میڈیا کے بجائے آمنے سامنے بیٹھ کر پرامن ماحول میں گفتگو کرنی چاہیے۔عالمِ دین علامہ طاہر اشرفی کہتے ہیں کہ معاشرے میں علم کم پھیل رہا ہے اِس لیے جہالت زیادہ ہے۔ان کے بقول مجموعی طور پر محرم امن اور محبت کے ساتھ گزرا ہے چند ایک جگہ پر واقعات ہوئے ہیں جن کے خلاف اداروں نے کارروائی کی ہے۔ علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ ایک چھوٹی سی چنگاری بھی پورے گھر کو جلا دیتی ہے۔طاہر اشرفی سمجھتے ہیں کہ محکمہ سی ٹی ڈی کو اس لیے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کیوں کہ عام پولیس کے حوالے سے لوگوں کو شکایت رہتی ہے کہ وہ بروقت کارروائی نہیں کرتی۔اْن کے بقول سی ٹی ڈی مقامی سطح پر حقائق سے زیادہ واقف ہے۔ لہذٰا جو لوگ نفرت پھیلاتے ہیں اْن کے خلاف کارروائی ہو تو ایسے واقعات کو روکا جا سکتا ہے۔طاہر اشرفی کے بقول ہر مسلک میں شر پسند عناصر موجود ہوتے ہیں چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی، لہذٰا ان کی حوصلہ شکنی بہت ضروری ہے۔شیعہ عالم کا کہنا تھا کہ اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان چند معاملات پر ہی اختلافات ہیں۔ بہت سی قدریں مشترک بھی ہیں، لیکن دونوں مسالک ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔